اسلام کا معاشی نظام در کالاردولت کی نفی کرتا ہے۔ اسلام میں دولت اخیض کرنے، ناجائز مانع ملکا نے اور ذخیرہ اندوزی جیسے کا سوس سے تھی سے سنج کیا ہے۔ رسول ﷺ نے ذخیرہ اندوزی کی مدت کرتے ہوئے غربا:
“ذخیرہ اندوزی کرنے والا طمعون ہے۔” (سنن ابن ماجہ: 2153)
در کالاردولت کے برکس اسلام نے ایسا نظام بنایا ہے جس کے ذریعے دولت معاشرے کے تمام افراد تک پہچان اور دولت کی گردش کے اثرات سے معاشرے کے تمام افراد اور طبقات کی سال طور پر مستفید ہو سکیں۔ طلا: ذکرہ، مضر (مطلوب کی ذکرہ)، قانون در اثر صد قد و غیر اثر۔ ذکرہ بالا اصولوں کے علاوہ تقویٰ، حسن معاملہ، بہترین اخلاق، خود اخلاقی، وعدے کی پاس داری، وقت کی پابندی (خصوصاً دفاتر میں) اور مستقل مزاجی وہ خصوصیات میں جان انسان کی معاشی سر گمیوں میں خیر دہ برکت کا دلیلی نفی ہیں۔
اسوہ ہوی سے ﷺ میں معاشی تعلیمات کے فائدہ و ضررات اہل تعالیٰ اور بی کریم ﷺ نے ان تمام امور کے متعلق ہدایات دی ہیں جو کی بھی طرح معاشی جدید جدہ کا حصہ ہوتے ہیں۔ سیرت ایبی ﷺ ﷺ کا مطالعہ کرنے سے ہمیں یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ جب عہد رسالت میں ان معاشی تعلیمات پر عمل درآمد کیا گیا تو پورے معاشرے کو اس کے فائدہ و ضررات حاصل ہوئے۔ لہذا جہاں ان معاشی تعلیمات نے لوگوں میں محت، وہیات و امانت، صدارت اور دوسروں کے ساتھ خیر خواہی کا جذبہ پر دان چوخا یا، وہی معاشی سر گمیوں میں سے طلا اور صد قد داری، تجارتی مطالعات میں قسم کا نے، سودی لین دین، جیتوں میں بے جائز اقدار اور ذخیرہ اندوزی کا خاتمہ ہوا۔ ان حدود و قید کا خیال رکھنے سے صرف معاشی سر گمی ہی نہیں بلکہ معاشرے کا پورا معاشی نظام پاکیزہ اور طبی ہو سکتا ہے، اور انسان کا اخلاقی اور روحانی مزاج بھی مسکم ہوتا ہے۔
ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم رسول ﷺ کے اُسوہ کو سامنے رکھیں۔ رزق حاصل کرنے کے لیے طلا ذرائع اقدار کریں، چاہے کا جمہو نا ہو یا ہوا اور پیش کہتے ہو یا ہر تر اسی طرح ان تمام نفی معاشی سر گمیوں میں شرکت کرے گریز کریں جن سے سیرت ایبی ﷺ میں معافت کی گئی ہے تا کہ ہم ہندی معاشی تعلیمات کے فائدہ و ضررات سے خود بھی مستفید ہو سکیں اور معاشرے کو بھی اس کے ثبث اثرات سے بہرہ ہر کھسی۔ اگر ہم اپنی معاشی زندگی کو آپ ﷺ ﷺ کے اُسوہ نہ کے مطابق ترتیب دیے گی کو شخص کریں اور ان کی ہدایات کو پانی قواس سے ہم اپنی اقدار اور فائدہ زندگی میں معاشی خوش حلال بھی حاصل کر سکتے ہیں اور معاشرے کے دیگر اقدار کی ضروریات کو پورا کرتے ہوئے معاشرے کے معاشی اظہار میں بھی پنا کر دار کر دہ ادا کر سکتے ہیں۔
الف۔ درست جواب کا انتخاب کریں۔
ب۔ کمالہ سے مرادہ ہے:
- ج۔ حلال رشحہ کرنا
- ج۔ حلال کہنا
- ب۔ حلال کہنا
ب۔ سحب ج۔ حالم
- د۔ واجب
- ج۔ حرم
- ب۔ سحب
3. کون سرچ (قیمت کد دن) خرید، صدیقین (چوک) اور شهدا کسا شهدا گا؟
- الف. وقت کی پنڈی کرنے والا
- ب. خود اقدار
- ج. تحت کرنے والا