اسوہ نبوی ﷺ
رسول الله ﷺ به آیران هیچ کسی طرح کی تکلیف نه بچاہے اور ان کے کھانے پہے اور لباس کا خیال رکھے کا حکم فرمایا۔ اس کا ذکر قرآن کریم می اس طرح آیا ہے:
وَذَلِيمُونَ الْفَتَاحَارَ عَنِ حُبِّهِ مِنْكِئِنَّا أَذْبِيَأَترجمہ: "اور وہ اس کی محبت میں کھانا کھالے ہیں ممکن اور قیم اور قیم کی وک۔"
امن وسالمی کا قیام
آپ ﷺ کے دہانی کے تمام اسباب و عرکات کا قلع تعق کرنے کے ساتھ رخ دنی بھر اعالن نبوت سے پہلے اور بہد میں اس وسالمی اور صلح کے لیے حصد افراد ت فراہم نے جن میں طفل الزمل میں شرکت ، ترش کی اید ار سالی ہر مہر ، جہرت جہش ، جہرت مدینہ ، بیٹھت مدینہ اور اس یہسی کی شاہی شال ہیں ۔ ایس اس پسندی کا سب ے بالجہت صلح دہینی ہے ، جس میں آپ ﷺ ﷺ نے اس و امان کی خاطر بیت رضوان کے باوجود اہل کہ کے ساتھ دس سال کے لیے جنگ بندی اور صلح کا دینی عبادہ کیا۔