رسیدہ کے پیدا ہونے سے پہلے، ان کی بہن صفحہ االسام گیم اور ان کے بھائی سید محمد خان پیدا ہو چکے تھے۔ سید محمد خان کی والدت کے بعد، ھجتے ہر کس اکن کے والدین کے ہاں کوئی چکہ پیدا ہینہ ہوا اھت، اس لیے سید احمد خان کے پیدا ہونے کی ان کو نہایت خوشی ہوئی۔ وہ اپنے خاندان کے اکثر چڑھوں کی نسبت زیادہ قومی اور قوا ان اور ہاتھ پاؤں سے تن درست پیدا ہوئے تھے۔ وہ اپنی ماں کی زبانی بیان کرتے تھے کہ جب ان کے ناتاد وسی بار لکھتے دیں میں آئے اور ان کو پہلی ہی بار دیکھا تو یہ کہا کہ، ”یہ تو ہمارے گھر میں جاث پیدا ہوا ہے“۔ رسیدہ کے بیان سے مفسہ ہو تا اھت کہ ان کے چنیہ میں جسمانی صحت اور فزیکل قابلیت کے سوا کوئی ایسی خصوصیت، جس سے ان کے چنیہ کو معمولی لڑکوں کے چنیہ پر یہ کٹفے فوتیت دی جائے کہ نہیں پانی جاتی تھی۔ یعنی جیسے کہ لحظے چکے اپنے ابتدائی میں نہایت ذکی اور طبات اے اور اپنے ہجو لیوں میں سب سے زیادہ تمیز اور ہوشیار ہوتے ہیں، رسیدہ میں کوئی اس قسم کا صرخی امتیاز نہ اھت۔ معلوم ہوتا ہے کہ اُٹھوں نے اپنے قوا ئے ذہنی کو خشن دماغی رابطت اور اگل تا غور رکف کے بندر جی ترقی دی تھی اور اسی لیے ان کی النف کا آغا زمعومی آدمیوں کی زندگی سے کچھ زیادہ چک دار معلوم نہیں ہوتا لیکن جس قدر آگے بڑھتے جائے اسی قد راس میں زیادہ غلطت پیدا ہوتی جاتی ہے، یہاں تک کہ یہی روک ومعمولی آدمیوں کی خفی سے بالاتر کردیتی ہے۔ اسی لیے شخص کھا کی پیدائے ہے کر نہتے آؤ دی جو چاہ ہے، ہو کر سکتا ہے۔
الغرض جب رسیدہ پیدا ہوے تھوں ان کے والد نے شاہ غالم علی صاحب سے تام رکھنے کی درخواست کی۔ شاہ صاحب ہی نے بڑے بھائی کا تام ”محذّر“ کھا تھا اور اُن کا تام ”احذّر“ کھا۔ رسیدہ کے دادا، ان کے والد کی شادی ہونے سے پہلے فضا کر چکے تھے اور یہ اور ان کے بہن بھائی شاہ صاحب ہی کو دادا حضرت کہا کرتے تھے۔ رسیدہ کہتے تھے کہ شاہ صاحب کو بھی ہم سب سے ایسی ہی محبت تھی ہمیں تحقیق دادا کو اپنے پڑوں سے ہوتی ہے، شاہ صاحب نے نائل علی اھت یا اور وہ اکثر کہا کرتے تھے کہ: ”ہو خدا تعالیٰ نے مجھے اولاد کے محذّروں سے آزد اور کھا ہے لیکن تھی کی اولاد کی محبت ایسی دے دی ہے کہ اُس کے چڑھیں یا بھاری مجھوکے بھیں کر دیتی ہے“۔
رسید کو ساہا مان یہ یہ نے جو، ایک قدیم خیرخواہ خادم ان کے گھر اےن یک تھی، پالا تھا۔ اس لیے ان کو مان یہ یہ سے نہایت محبت تھی۔ وہ پانچ بڑس کے تھے جب مان یہ یہ کا انتقال ہوا، ان کا بیان ہے کہ مجھے خوب یاد ہے کہ مان یہ یہ مرنے سے چند گھنٹے پہلے فلاہ کا شتر یہ مجھوک پالا
جب شاہ صاحب نے روییا چڑھاےن کا ارادہ کیا تو والدےن عرض کی کہ حضرت! میرے اور میری اوالد کے جیتے جی آپ دنر کار روییا لینے کی اوروں کا اجازت دیتے ہیں! شاہ صاحب نے فرمایا نہیں نہیں تھا رے سوا کوئی نہیں لے سکتا۔ میں اس وقت صغیر سن تھا۔ جب شاہ صاحب نے روییا چڑھایا، والدےن جھے سے کہا جاؤ روییا اٹھالو، میں نے آگے بڑھ کر روییا اٹھالیا۔