روزہ
روزے کا بنیادی مقصد حصول تقویٰ اور پریزہ گاری ہے۔ حضرت الیہ رہر ہیں اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ماہر مضامن کے روزوں سے متعلق حضور نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا:
"انسان کا کبلی عمل دس گناہ سے لے کر سات سونگنا کہ، اور آگے بختانہ چاہے، بڑھا یا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: روزہ اس سے مستشبی ہے کیونکہ وہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کی جزاہوں گا۔" (سنن ابن ماجہ: 1638)
روزے کی فضیلت بیان کرتے ہوئے حضور ﷺ نے ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا کہ روزہ جنہم کی آگ سے ڈھال ہے (سنن نبی: 2230)
روزے کا ظلم
روزے کے اکام و سا لک روزے کی اقام ارضضان کا روزہ، ۲۷ ذہن رحمن کا روزہ، ۲۵ لکلی روزہ روزہ ڈولڈلے کا کفارہ
روزہ ڈولڈلے کی اقدالا زہ ہے، لیکن بلاہ ذہر رشی رضامن کا روزہ ڈولڈلے پر قضا کے ساتھ کفارہ بھی ہے جو کہ ساھ دن کے مسلسل روزہ رکھنا یا ساھے سکین کو کھانا کھانا ہے۔