کسی بھی معاشرے میں دینات داری کو ایک خاص اہمیت حاصل ہے ، اگر معاشرے کے تمام افراد اپنی اپنی ذمہ داریاں دینات داری کے ساتھ احیام دیں تو معاشرہ ایک مثالی ترقی اپنے معاشرہ بن جاتا ہے ، لیکن اگر لوگ دینات داری کے جہاتے بڑی اور خیانت پر اتراہیں گے تو معاشرہ اخلاقی، معاشی اور معاشرتی قیچے کا کا کا کا کا کا کا کا کا کا کہا کا کا کا کا کا کا کا کا کا
راضی اللہ عنہ کا ایک قول ہے کہ کھران کی ذمہ داری ہے کہ وہ حق امانت آؤا کرے ، اگر وہ حق اذا کرتا ہے تو عوام پر بھی اس کی اطاعت الزم ہو جاتی ہے ، حضرت سعد بن ابی دقاہم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ موسم میں ہم حصلت ہو سکتی ہے سوائے خیانت اور محبت کے
ان اصولوں کی بھری کرنے سے ان تمام اخلاقی رذائل کا اذال کیا جاسکتا ہے اور معاشرہ تعصب پندی، شخص کوئی، مثبتات، رشوت ثانی بھی تمام خراجیں سے پاک ہو سکتا ہے ، میں جاتا ہے کہ ہم خود بھی ان رذائل سے بھیں اور رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اسوہ کو سائے رکھ کر اپنے معاشرے کو ان تمام رذائل سے پاک کرنے کی جد وجہ دکریں۔
کسی شخص کے ساتھ اس کے رنگ دلنے بہت کی وجہ سے اس کے ساتھ اعتیازی سلوک کرنا یا اے کہ تر جانا کہا تا ہے:
- (الف) کہر
- (ب) تعصب
- (ج) خود پندی
- (د) انسان
2. اللہ تعالیٰ نے انسان کو مختلف گردہوں اور قیقول میں پیدا کیا:
- (الف) آپ میں احساس برتری کے لیے
- (ب) جنگ و جدل کے لیے
- (ج) آپ میں بچیان کے لیے
- (د) ایک دوسرے کی مدد کے لیے
3. خود پندی شکل اعتیار کر لیتے ہیں:
- (الف) کھبرکی
- (ب) صدکی
- (ج) تعصب کی
- (د) بدعوان کی