آخری سیڑھی اور اُس کے کمرے کے درمیان کم و بیش دس گز کا فاصلہ تھا اور یہ فاصلہ اُس کے لیے ایک بڑی آڑ اور مشکل کا مرحلہ بن جاتا تھا۔ کمرے کا دروازہ بند ہوتا تھا تو اُسے کسی قدر اطمینان ہو جاتا تھا کہ اُس کے پوتے اور پوتیوں کے حملے سے اس کا کمرہ محفوظ ہے۔ جب اس کے دونوں پٹ کھلے ہوتے تھے اور دروازے کے باہر کمرے کی کوئی چیز پڑی ہوتی تھی تو اس کی پیشانی پر شکنیں آ جاتی تھیں اور چہرے کی باریک رکھیں زیادہ نمایاں ہو کر اس کی کرب انگیز بے کلی کا اظہار کرنے لگتی تھیں۔
اُس وقت کمرے کے دونوں پٹ کھلے تھے۔ "اوہ میرے خدا یا!" اُس کے ہونٹوں سے بے اختیار کالا نکلا اور کمرے کے اندر چلا گیا۔ جس تباہی کا اُس نے اندازہ لگا یا تھا وہ صورتِ حال سے کہیں زیادہ تھی۔ اُس روز مجود اور اس کی دونوں بہوؤں نے معمول سے زیادہ ہی تباہی مچائی تھی۔
پلنگ کی چادر، جسے اس کی بہو نے صرف ایک روز پہلے بدلی تھی، اس پر چپڑے ہوئے داغ نمایاں تھے۔ انہوں نے پلنگ پر رکھی ہوئی چیزوں کو ادھر ادھر کر دیا تھا اور ہر طرف بکھرے ہوئے ریشوں نے اس کی بے چینی کو مزید بڑھا دیا۔ میز پر کتابیں وہ بڑی ترتیب کے ساتھ رکھا کرتا تھا۔ اُسے اپنی کتابوں سے بڑی محبت تھی اور ان کا مطالعہ کر کے اپنا وقت گزارتا تھا۔ یہ ساری کتابیں منتشر حالت میں پڑی تھیں۔
قالین پر آتش دان الٹا پڑا تھا۔ خاکدان، کمرے کے ایک گوشے میں رکھا ہوتا تھا۔ وہ کمرے کے وسط میں اس طرح اوندھا پڑا تھا کہ اُس کی راکھ اور کوئلے ادھر ادھر بکھرے ہوئے تھے۔
پینشن کے لیے گھر سے جانے سے پہلے، وہ دھوبی سے دھلے ہوئے کپڑے لا کر کرسی کے اوپر رکھ گیا تھا کہ واپس آ کر انھیں الماری کے خانے میں رکھ دے گا۔ ان میں سے کچھ کپڑے پلنگ پر پڑے تھے۔ مجود نے ضرور اپنی بہن کو دکھانے کے لیے ان کی کشش کی ہوگی۔
ایسے میں اس کا صبر و قرار جواب دے جاتا تھا اور وہ چھٹکی سے ہاتھ اٹھا کر رکھ دیتا تھا اور چھوٹے بچوں سے بچتا تھا اور اس روز بھی
اس اشتباہ میں امریکی طرز پر اولڈ ایج ہوم (Old Age Home) کے قیام کی تجویز سامنے آئی اور ان بڑھے ہوئے مردوں اور عورتوں کو اس ہوم کے مختلف حصوں سے متعلق بتایا گیا جو بڑھاپے میں پر سکون زندگی گزارنے کے آرزومند ہیں۔ اس سلسلے میں ایک تجویز پیش کی گئی۔
آس نے اسے روک کر رکھ دیا۔
یہ تو بہت اچھی بات ہے۔ اُس نے اپنے آپ کو مطمئن کرتے ہوئے کہا اور اخبار کو پلٹ کر ایک اور صفحے سے دیکھنے لگا۔
صح اُس کی بہو اٹھے لے کر آگئی۔
"اباہی! خدا کے لیے معاف کر دیں۔"
بہو کے الفاظ بے حد پرسوز تھے، اُس نے بہو کا ہاتھ پکڑ لیا اور وہ اپنی کرسی کو بڑی منونیت سے دیکھنے لگا۔ دلجی دلجی انا سے کرنے کے بعد اس نے اس سلسلے میں ایک اور حصے سے ملاقات کے لیے روانہ ہوا۔
ادھر عمر اپنی پہنچ سے باہر تھی۔ بھرپور چہرے، بڑی آنکھوں اور آنکھوں میں ذہانت کی جھلک۔ بڑی خوشی سے اُس نے قدم بڑھاتے ہوئے اُسے اپنے گھر کے ڈرائینگ روم میں بٹھایا۔ ان کے چہرے پر مسکراہٹ تھی اور جب اس نے دیکھا کہ جس شخص سے وہ ملاقات کر رہا ہے وہ ہوم میں داخل ہونے کے لیے آیا ہے تو بولا:
"مجھے، آپ کی آمد پر بڑی خوشی ہوئی ہے۔ آپ کی خواہش کی تکمیل کر کے مجھے اور خوشی ہوگی۔ میں نے اپنی زندگی کا ایک اہم حصہ اولڈ ایج ہوم میں گزارا ہے۔ اس کی کچھ چیزوں سے مجھے ڈر نہیں آیا۔ کچھ ڈر آیا ہے اور ایک چیز جو میرے لیے زیادہ ڈر کی باعث ہے وہ اولڈ ایج ہوم کا ماحول ہے۔ میں نے ایک خاص حصے کے ایک ہوم میں قدم رکھا تھا اور وہاں رہنے والوں کو بہت پریشان اور بے چین دیکھا تھا۔ لیکن اب ان کے چہروں پر جو نظارہ دیکھا تھا وہ بہت اچھا تھا۔"
ادھر اس نے غور سے اپنے مہمان کا چہرہ دیکھا اور اس کے دماغ کو اپنی کشش کی طرف موڑا۔ یہ شخص اس کی شخصیت کا آئینہ تھا۔ "میں نے اس حصے کے دوران یہ اولڈ ایج ہوم بنانے کا ارادہ کیا تھا۔ میرے محترم! آپ اس حقیقت سے واقف ہوں گے کہ ہر بوڑھے کو کسی نہ کسی کی ضرورت ہوتی ہے اور یہ ان بچوں کو نہیں ملتی۔ اس ضرورت کو مدنظر رکھ کر میں نے زبردستی رک کر ایک پرسکون اور پرامن ہوم بنایا ہے۔ اخراجات کے لیے کافی رقم مختص کی ہے۔"