ناول "میرا گاوس" کا تعارف
آرڈو ادب میں سیند غالم اشتقلین تقوی کی حیثیت اس اختیار سے منفرد ہے کہ اس وقت جب افسانو ادب میں شہری تجہد یک وموضوع بتایا جارہا تھا، انھوں نے نمصف دہیاتی معاشرے کے سات رگوں کی قوس قرض ترتیب دی بلکہ اس کے پورے اٹھقیں یس منظر کو بھی عیان کر دیا۔ شٹی پریہم چند کے بعد دہیاتی زندگی کو بھر پور انداز میں پیش کرنے کا سہرا سیند غالم اشتقلین تقوی کے سر ہے۔ ناول ”میرا گاوس“ میں قیام پاکستان سے کچھ پہلے سے کر تقریباً ۱۹۶۵ ایک کی پاکستانی تاریخ کے اہم و اقعات، پاک بھارت جنگ اور لکی و ین الاقو ای سیاست کی کرٹوں کا تذکر بھی ملات ہے۔ اس ناول میں پکھ مراد نایا گاوس کی تاریخ پیش کی گئی ہے۔ یہ گاوس سیال کوٹ کے نزدیک واقع ہے اور و ین خود ان کا آپانی گاوس بھر تجھ بھی آباد ہے۔ ناول کے تمام واقعات ناول لگارنے اس کے مرکزی کردار“ما پنے“ (عبدالرحمن) کی زبان سے کہلو اے ںیہ۔ ناول کے دیگر کرداروں میں چوھری شرف دین، بھال ملسم ہمدیاں موحہ دین، شیماں، ملتی، حیات وغیر و شام ںیہ۔
ناول کے دیگر کرداروں میں چوھری شرف دین، بھال ملسم ہمدیاں موحہ دین، شیماں، ملتی، حیات وغیر و شام ںیہ۔
ہم الکل پورے کے کچ میں ےھتہ کتا ہشقہ کا معاہدہ ہوا۔
یہ معاہدہ روس نے کرا یا تھا جو دنیا کی بہت بڑی طاقت ہے۔ گاوس میں کوئی معاملہ اچھ جائے تو گاوس سے باہر کے کسی بڑے آدمی وک باکر ہم آے سرچنے بنا لیتے ہیں۔ وہ جو فیصلہ کرے ہم آے سر آکھسون پر کرتے ہیں۔ ہم نے روس کا فیصلہ قبول کریا۔ ہم عام لوگوں میں اتی ایسی لصیرت کہاں ہے کہ اس معاہدے کی تیکھ چنچے پاتے۔ صدر پاکستان نے رہڈیو پر جو تقریر کی اس سے معلوم ہوا کہ اس معاہدے سے پاکستان کو بہت فائدہ پہنچے گا اور جو کس شیکر کا مسئلہ ہو جائے گا۔ کچھ لوگ کہتے تھے کہ اس جنگ سے ہم نے کیا پا یا جو خیش کا اظہار کریں ،بلکہ ہم نے جیہق ہوئی جنگ ہار دی۔ میرا دل کہ رہا تھا کہ جنگ سے انسان پاتا کچھ نہیں کھوتا بہت کچھ ہے۔ لوگ گھر سے بے گھر ہوتے ہیں
ان کی فضیلں آڑ جاتی ہیں اور ان کی عزّت میں برباد ہوجاتی ہیں۔ جنابے کیوں، میں جس سے بھی یہ بات کرتا، وہ خوش نہ ہوتا۔ ویں گلتا جیسے ہر شخص کے اندر کوئی چیز وٹ گئی ہے اور اس کا حوصہ پرت ہو گیا ہے۔
میں نے بھا سے کہا۔ ”یہ جنگ بھی اسی قسم کی تھی، جس سے ہم اپنے گاؤں میں آے دن دو چار ہوتے رہتے ہیں۔“
“میں نے نہیں سچا ما نہے!“
”ہم نے وجودی کو قدم قدم پر گشت دی لیکن وجودری کی سیاست ہم سے زور دار تھی۔ ہر گشت کے بعد وہ پھر جیت جاتا۔ وہ بار کر جیتتا ہر اہو رہم جیت کر بارتے رہے۔ کیوں بھا! کھیک ہے ناں؟“
“کھیک ہے۔“
”اس کی کیا وجہ ہے؟“ میں نے پوچھا۔
”وجودری کے پاس ہم سے زیادہ زمین ہے۔ اس کا اثر و رسوخ بھی ہم سے بہت بڑھا ہوا ہے۔ اس کا بیٹا وکیل ہے۔ اس کا سید پور کے ذیل داروں سے رشتہ ہے۔ ایسی بہت بی زمین ہیں جن میں ہم اس کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔ ہم ہر جیت پر کچھ بار جاتے ہیں وہ ہر بار پر کچھ نہ کچھ جیت لیتا ہے۔“
ہم نے چک کے جن کمپنٹوں میں گندم ہوئی تھی، وہ اب ہر بے بھرے نظر آتے تھے کیوں کہ سرد ویں میں ایک دو بار شیش بھی ہو گئی تھیں۔ رہڈیو اور اخباروں سے معلوم ہوتا تھا کہ دونوں ملکوں کی فونھیں ایک دوسرے کا علاقہ خالی کر رہی ہیں۔ ہم اپنے علاقے میں جانے کے لیے بے تا ب ہو گئے تھے۔ آ خر یہ اعالن بھی ہو گیا کہ ان علاقوں کے لوگ و ایس جاسکتے ہیں۔ ہم نے سوچا کہ ابیھ عورتوں اور چوکں کو ساتھ لے جانا اچھا نہیں۔ اس لیے میرے ابپ نے فیصلہ کیا کہ بھا اعلم اور عبدالغفار، چک میں ان کے پاس رہیں اور ہم ابپ بیٹا گاؤں جا کر حالات دیکھیں اور جب مناس ب ہوا، انھیں بالیلں۔
سردویں کا وہ دن بناہیت خوش گوا رقھا، کیوں کہ دوھپ چک رہی تھی اور اس میں پھچلے دونوں کی بڑھ کی بڑھی رہی ہوئی تھی۔ یسال کوٹ شہر میں پہل پہل لوٹ آئی تھی۔ چھاؤئی میں بھی کچھ کچھ آ بادی نظر آ رہی تھی اور سید پور جائے والی پکی سرک پر سکے اور تا گے چلنا شروع ہو گئے تھے۔ ہم تا گے پر پیشھنے گلو اپنے علاقے کے کچھ لوگوں سے ملاتا ت ہو گئی۔ اُن میں سے ایک دو آ دی اپنا علاقہ دیکھ آئے تھے۔ انھوں نے کہا: ”وجودری موح دین! وہاں پہچائے کرتم جو کچھ دیکھو گے، اے دیکھ کر تھسیں اپنی آ کھوں پر یقین نہیں آئے گا۔“
تاتاگا چلتا رہا اور ہم اپنے خیالوں میں کھونے رہے۔ سرک کے دونوں طرف کی رئیسین آ بادھیں اور ششیم کے درختوں پر یور آ راہتا۔ ہلہی ہلہی خوش یو خیپل ہوئی تھی۔ ابھی ہمارا گاؤں تین چار لیس کے فاصلے پرتا کہ ایک یک منظر بدل گیا۔ ہمارے سامنے کی سرک خیجن تھی۔ اس کے دونوں طرف درختوں کے کنے ہوئے لھٹھٹھ نظر آ رہے تھے اور دوز و درک کھوتوں میں بھی کوئی درخت نظر نہیں آ راہتا۔ ہاں کھوتوں میں گھاس آگ آئی تھی۔ بارش کی وجہ سے گھاس تر و تازہ تھی۔ اس کا رنگ کھر گیا تھا، پر کھوتوں میں سے درخت تک جا میں تو گھاس کا ڈیفکے لے راہتا۔
ہم ےنھجمس ےک رقبی اتےگنےس آترے۔ ےھجم ںیہنں ےک دعب اگؤں یک دھتری رپ الہپ دقم رکاھ وت ںیم ےن وساچ” اس دھتری وکوشں ےک اپؤں روند ےکچ ںیہ۔ اس ےک ےنیس رپأس ےک کینپ ےلچ ےھت۔ الہپ دقم دقم رپ وگےل رگے ےھت اور اس اک ےنیس اکھٹپ راہتا۔ وہ یھب وت ایس اک اٹیب اھت۔ اس ےن ااسی ویکں ایک؟“ ےھجم اےنپ وسال اک وجاب ہن الم۔
ےنھجمس رپوشمن ےن اانپ ومراچااگایا اھت۔ اس ےک اشنن اصػ رظنآ رہے ےھت۔ ریمی ایکٹل اک انؾ واشنؿ ابیت ںیہن راہ اھت۔ اگؤں کت اجےن وایل امنیٹں یک رفس کپس رک وچڑا وہیکچیھت اور اس ںیم ڑگڑھے ڑپ ےکچ ےھت۔ اس ےک اسھت اسھت ےگل یکلب ےک ےھجمس انب ےھت۔ اگؤں کت ےنچنہپ ےنچنہپ ریمادؽ امنسؿ اور ریماؿ وہ اکچ اھت اور ویں اگل راہ اھت ےسیج اشؾ ڑپیکج وہ احالں ہک اھبیھ وھپ رتیھت اور اس ںیم ڈےقلت وسرج یک زردی یھب ںیہن رپ یھت۔ ایھب مہ اگؤں ےس وسد وسد وقؾ ےک افسےل رپ ےھت ہک اس یک وریانی ےن ںیمہ کپ رک آای ےسیج وہ امہرا اابقتسؽ رکریہ وہ۔ دؽں ںیم آتری وہیئ اشؾ اور یھب رہگی وہیئ۔
میرا یج اچاہک ںیم ںیہک ےس ولٹ اجؤں۔