سبق: لوک داستان "دویق کا چھل"
کسی جنگل میں، ایک کبوتر اور کبوتری رہتے تھے۔ ایک بڑے سے درخت پران کا گھولسالھا اور اس میں وہ دوونں اس، جیہن کی زندگی بسرکر رہے تھے۔ جب کبوتری نے گھولے میں اٹنے دیتے اے ہر وقت اسی بات کی لگرنگی رہتی کہ کہیں کوئی جانورانڈے نے لے جائے۔
بھی بات سوچتے ہوئے، ایک روزہ کو بتر سے کہنے گی
"ہمارا یہاں کوئی ایسا ساتھی نہیں ہے جو وقت پڑنے پر کام آ سکے۔"
"دیکھیں تھیں یہاں خطرہ کس بات کا ہے؟"
کبوتر نے تجرانی سے دریافت کیا۔ اس پر کبوتری اسے سمجھا نے کے انداز میں بولی۔
"بڑا وقت کسی کو بتا کرنیں آیا کرتا۔"