خطاب بہ جوانان اسلام - نظم
اگر چاہوں تو تفشہ کھیچے کر الفاظ میں رکھ دوں
گھر تیرے ٹھیکل سے فُروں تر ہے وہ نظارا
چھے آہا سے اپنے کوئی نسبت ہوئیں سکتے
کہ تو گھنٹار، وہ کردار، تو ثابت، وہ سیارا
گئوادی ہم نے جو اسالف سے میراث پائی تھی
ڑھیا سے زمین پر آسمان نے ہم کو دے مارا
حکومت کا تو کیا رونا کہ وہ اک عارضی شےھی
نہیں دنیا کے آئمین مُسَلَّم سے کوئی چارا
گھر وہ علم کے موقی، کتائیں اپنے آہا کی
جو دیکھیں آن کو ویرپ میں تو دل ہوتا ہے یہیا را
دِغْتِ! روزِ سیاهِ پِیرِ کتعال را تماشا سَن
(۲) کہ وُتُورِ دِیدِہ اَشِ روشن کہدِجْشِ زِیلَغا رَ،
(ب)بگل درا