غزل - زہرہ نگاہ
یوں کہنے کو بھرایے اظہار بہت ہے
ہی دل ، دل ناداں سجی خوددار بہت ہے
دیاونوں کو اب وُسعتِ حصرا نہیں درکار
دشت کے لیے سایے دیوار بہت ہے
چہتا ہے گلی کُوچوں میں نظارہ اِزلام
لزم کے محوشی کا وفادار بہت ہے
جب کُس تکلمہ پہ کڑا وقت پڑے تو
اور کچھ بھی نہ باقی ہو تو سکھار بہت ہے
خود آئینہ گر، آئینہ چھوڑے تو نظر آئے
دہکا ہوا ہر ضلعہ زخمار بہت ہے
مُصَصَّتْ کے لیے اذنِ سَاعَتْ پہ ہیں بہرے
اور عدل کی زنجیر میں جھکھار بہت ہے