بابل کی تہذیب عروج کے زمانے میں بہت ترقی یافتہ تھی۔ دریائے فرات کے کنارے آباد یہ شہر اپنی شان و شوکت کے لیے مشہور تھا۔ بابل کے کھنڈرات آج بھی عراق میں موجود ہیں۔ ان کھنڈرات میں سب سے مشہور "باب عشتار" ہے۔ یہ دروازہ دیوی عشتار سے منسوب ہے۔ اس دروازے اور اس کی دیواروں پر بیلوں اور اژدہوں کی تصویروں سے مزین ہیں جو ایشیاء پر بنی ہوئی ہیں۔ یہاں سے بادشاہ کا جلوس گزرتا تھا۔ اس کے دونوں طرف کی دیواروں پر شیروں کے ایک سو بیس نقوش کھود دیے گئے تھے۔ خود باب عشتار پر ایک اندازے کے مطابق پانچ سو پچاس اژدہوں اور بیلوں کے نقوش بنائے گئے تھے۔ دروازے کے اوپر اس حصے پر جہاں بادشاہ کھڑا تھا، رنگ دار چکنی ایشیاء چپکی ہیں۔ ان ایشیاء پر رنگ کی تہ چڑھائی گئی تھی جو پونے تین ہزار برس گزر جانے پر بھی اسی طرح قائم ہے۔ اس تہذیب پر کام کرنے والوں نے سلطنت بابل و نینوا کے کھنڈرات اتنی گہرائی میں کھودے کہ ان میں موجود وہ تختیاں جو جانوروں اور انسان نما اجناس کی تصویروں اور تحریری علامتوں سے پر ہیں۔ یہ علامتیں طرح طرح کے خوف و عذاب کی کہانیاں سُناتی ہیں۔
باب عشتار کے جنوب مغرب میں شاہی محلات کا علاقہ ہے جو تیرہ ایکڑ زمین میں پھیلا ہوا تھا۔ یہی وہ علاقہ ہے جہاں سے بابل کی دولت و شمشکت کے قصے آج بھی ہمارے ادب میں صاف سنائی دیتے ہیں۔ اس علاقے میں بادشاہوں کے پانچ بڑے بڑے محل تھے، جن میں سے ایک بہت بڑا دربارِ بابل یا دیوان تھا، جس میں نیل چک دار ایشیاء کا کام تھا۔ اس وسیع عمارت کی گول چھت بنانے والے انجینئرنگ کے ترقی یافتہ اصولوں سے اچھی طرح واقف ہوں گے۔ شاید یہی وہ دیوان یا دربار ہے، جس کی دیوار پر یہودی باشندوں نے ضیافت کے وقت ایک یہودی ہاتھ نے چکھتے ہوئے لفظوں میں زوالِ بابل کی پیشین گوئی لکھ دی تھی۔ اس روایت نے بعد میں بہت سی زبانوں کو اس مضمون سے ملتے جلتے محاورے دیے ہیں۔ اس دربارِ بابل کی دیوار پر زوالِ بابل کی یہ پیشین گوئی کا منڈھنا ہونا شاید صرف ایک کہانی ہو، مگر یہ کہانی وقت اور تاریخ کی سب سے زیادہ معنی خیز اور مسلسل حقیقت ہے۔ ہر دور میں یہی ہوتا ہے کہ پہلے وقت کے ہاتھوں سلطانوں اور قوموں کے سامنے دیوار پر تنبیہی تحریر لکھتے ہیں اور اگر وہ راہِ راست پر نہ آ سکیں تو ان کا لقا گھونٹ دیتی ہے۔ کمال یہ ہے کہ تحریریں ہزار ہا سال سے لکھی جارہی ہیں اور انھیں دیکھنے والے دیکھتے ہیں اور پڑھتے ہیں اور سمجھتے ہیں مگر پھر بھی کچھ نہیں سمجھتے۔
"کیا یہ بابل عظیم نہیں ہے جسے میں نے اپنی شاہ نمود کے لیے بنایا ہے؟" یہ خبط نصر کی تحریر ہے جسے جدید ماہرین نے پڑھا ہے۔
ایک اور تاریخی روایت وقت کے دھندلکوں میں سے ابھرتی ہے جسے ضرور غور سے پڑھیں گے۔ "اور وہاں شیروں کے درندے گھومیں گے۔ اور ان کے مکان خوف ناک کھنڈرات کے بہتے جائیں گے، ان گھروں کا تو آنا پتہ تک نہ بنے گا اور چرخ وہاں قرقف کریں گے۔"